پیاسے کوے کی کہانی" دنیا بھر میں مختلف طرح کی بنیادی اختلافات روشن کرنے والی مشہور قصہ ہے۔ یہاں اس کی خلاصہ ہے
کہانی
ایک دن ایک کوہرے کے کوے میں پیاسا کوا رہتا تھا۔ اس نے بہت دنوں سے پانی کی تلاش کر رہا تھا، مگر بہت سارے کوے میں صرف تھوڑا بہت پانی ہوتا تھا۔
ایک دن، ایک پیاسا کبوتر وہاں پہنچا۔ وہ کوتوں کو دیکھ کر کہا: "بھائی، میرے لیے تھوڑا پانی نکال دو۔ مجھے بہت پیاس لگی ہے۔"
کوتے نے جواب دیا: "نہیں، میں تمہیں پانی نہیں دے سکتا۔ یہ پانی میرا ہے اور میں اسے کسی سے شیئر نہیں کر سکتا۔"
پیاسا کبوتر نے دکھایا کہ وہ بہت ضعیف ہو چکا ہے اور اگر اسے پانی نہیں دیا گیا تو وہ مر جائے گا۔ اس نے بہت درخواست کی، مگر کوتے نے نہیں مانا۔
تب پیاسے کبوتر نے سوچا کچھ ہو سکتا ہے اور اس نے کوے کے ایک کنارے پر چھپا ہوا ایک سانپ دیکھا۔ وہ سانپ بڑا زہریلا تھا اور دکھتا تھا کہ وہ کسی کو کچھ بری بات کا انجام دینے والا ہے۔
پیاسے کبوتر نے اپنی ہوش میں آکر، اس سانپ کو کوے کے کوتے کی زبان سے بتایا کہ اگر وہ پانی نہیں دیا تو سانپ اس کا کتل ہو جائے گا۔
کوتے نے پہلے تو اسے چھپائی رکھنے کی کوشش کی مگر سانپ نے بہت سارے زہر دھکیل دیا۔ کوتے کو غصے میں آکر پانی دینے کا فیصلہ کیا۔
پیاسے کبوتر نے پانی پیا اور وہ بھگو کر تروڑنے لگا۔ اس نے سانپ کو شکریہ کہا اور سانپ فرار ہوگیا۔
**عبرت**:
اس کہانی سے یہ سکھنے کو ملتا ہے کہ کبھی کبھار غیر متوقع طریقوں سے بھی مشکلات کا حل نکل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دوسروں کی مدد کرنا بھی ایک نیک عمل ہے جو بہترین انجام تک پہنچ سکتا ہے۔

0 Comments